بار پیما

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - ہوا کے دباؤ کو ناپنے کا آلہ (جو موسم کی پیش گوئی کے لیے بھی دوسرے آلات کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے)۔ "آسمان بھی بالکل صاف ہوتا تھا اور بارپیما میں پارہ بھی۔"      ( ١٩٤١ء، حیوانی دنیا کے عجائبات، ١٨ )

اشتقاق

فارسی زبان کے اسم بار کے ساتھ فارسی مصدر پیمودن سے مشتق صیغۂ امر 'پیما' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'بار پیما' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩٤ء میں "علم ہیئت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہوا کے دباؤ کو ناپنے کا آلہ (جو موسم کی پیش گوئی کے لیے بھی دوسرے آلات کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے)۔ "آسمان بھی بالکل صاف ہوتا تھا اور بارپیما میں پارہ بھی۔"      ( ١٩٤١ء، حیوانی دنیا کے عجائبات، ١٨ )

جنس: مذکر